ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مینگلور میں جسٹس گوپال گوڈا نے کہا؛ پولیس نے عوامی ٹریبونل کو دیے گئے نوٹس میں حقائق پر سے پردہ اُٹھانے کی کارروائی روکنے کا سبب نہیں بتایا

مینگلور میں جسٹس گوپال گوڈا نے کہا؛ پولیس نے عوامی ٹریبونل کو دیے گئے نوٹس میں حقائق پر سے پردہ اُٹھانے کی کارروائی روکنے کا سبب نہیں بتایا

Tue, 07 Jan 2020 20:55:03    S.O. News Service

منگلورو7/جنوری (ایس او نیوز) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف 19دسمبر کو منگلورو میں ہوئے احتجاج اور اس کے جواب میں پولیس فائرنگ اور لاٹھی چارج کے علاوہ پولیس کے ظلم وستم کی تحقیقات کرنے کے لئے اے پی سی آر نے جو عوامی عدالت (پبلک ٹریبونل) قائم کیا ہے اس کی پہلی نشست جب 6جنوری کو منگلورو میں منعقد کی جارہی تھی تو اس کو روکنے کے لئے پولیس نے نوٹس دیا تھا۔

اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹریبونل میں شامل  سپریم کورٹ کے سابق جسٹس گوپال گوڈا نے کہا کہ ”19دسمبر کو پیش آنے والے واقعات کے بارے میں عوام سے جانکاری حاصل کرنے کی غرض سے ہم لوگ بنگلورو سے منگلورو پہنچے۔لیکن پروگرام کے منتظمین کو پولیس نے اجازت نہ دینے کا نوٹس جاری کیا۔لیکن اس میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کس قانون کے تحت اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے۔یہ ایک جمہوری ملک ہے۔ اور ایک سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی حیثیت سے عوام کی درخواست پر ان کا احوال اور حقائق جاننے کامجھے پورا حق حاصل ہے۔

اے پی سی آر سمیت دیگر دو اداروں پر مشتمل لیسننگ پوسٹ کی طرف سے تشکیل کردہ عوامی عدالت میں شامل ہائی کورٹ کے سابق سرکاری وکیل بی ٹی وینکٹیش اور سینئر جرنلسٹ شرینواس راجوپر مشتمل ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے سابق جسٹس گوپال گوڈ ا پیر کو منگلورو پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آسام سمیت کئی علاقوں کا دورہ کیا ہے اور عوام کا احوال جاننے کی کوشش کی ہے۔ ہر جگہ ضلع انتظامیہ اور پولیس محکمے کی طرف سے مجھے سیکیوریٹی فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں پر ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ کم از کم اتنا توبتانا چاہیے ناکہ کس قانون کے تحت عوام سے ان کے کوائف جاننے میں رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس عوامی عدالت میں محکمہ پولیس کو بھی اپنے ثبوتوں کے ساتھ حالات پیش کرنے کا پوراموقع ہے۔ اس سلسلے میں کچھ دن پہلے معلومات دی گئی تھی۔اس کے جواب میں سوشیل میڈیا پر ایک ہزار سے زائد افراد نے ان کے لئے انصاف دلانے کا مطالبہ کیاتھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جن لوگوں نے واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، جو لوگ اور ان کے خاندان والے اس سے متاثرہوئے ہیں وہ اگر ایک ریٹائرڈ جسٹس کے آگے اپنا دکھڑا پیش کرتے ہیں اور واقعات کی تفصیل بتاتے ہیں، تو اس میں رکاوٹ پیدا کرنے کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ اس بات کو ایک جمہوری ملک میں کس طرح قبول کیا جاسکتا ہے؟


Share: